آستان قدس رضوی کے مطابق آيت اللہ احمد مروی نے 20 اپریل 2026 کو رہبرشہید انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای کے ذریعے آستان قدس رضوی کو ہدیہ کئے گئے عبداللہ رنّانی کی خطاطی کے قرآن کریم کے ایک نفیس نسخہ کی جس پررہبرشہید کے دستخط ہیں تقریب رونمائي کے میں علما اور محققین کی موجودگي میں خطاب کے دوران عشرہ کرامت کی مبارکباد پیش کی اور ملک میں قرآنی تعلیمات کو زندہ رکھنے میں رہبرشہید انقلاب اسلامی کے بے مثال کردار پر روشنی ڈالی
انہوں نے کہا کہ حقیقت میں رہبرشہید کا ہمارے دینی اور مذہبی معاشرے کی گردن پر بہت بڑا حق ہے خاص طور پر قرآن کریم کی تعلیمات کے احیاء میں انہوں نے اپنی تمام توانائی قرآنی تعلیمات اور ثقافت کی نشرو اشاعت اور ترویج میں صرف کی ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ یہ کوششیں محتلف شعبوں منجملہ قران کریم کی طباعت اور چھپائي ، قرآن کریم کے ترجموں کے فروغ اور قرآن کریم کے حفاظ او قاریوں کی تربیت میں جلوہ گر رہی ہیں ۔
انہوں نے اسلامی انقلاب سے قبل کی صورتحال کا آج کے حالات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلامی انقلاب سے قبل کی صورتحال کا آج کے حالات سے موازنہ کریں تو اس تبدیلی کی گہرائي کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب سے قبل ملک میں قرآن کریم کے حفاظ کی تعداد بہت ہی کم تھی اور حوزہ علمیہ قم میں جو شیعوں کا سب سے بڑا حوزہ علمیہ تھا قران کریم کے حافظوں کی تعداد بہت ہی محدود تھی جنھیں انگلیوں پر گنا جاسکتا تھا ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ آج ملک میں دسیوں ہزار قرآن کریم کے حفاظ اور قاری ہیں جن کی حوزہ ہائے علمیہ اور یونیورسٹیوں میں تربیت کی گئی ہے اور ان میں مرد و خواتین اور طلبا و طالبات سب شامل ہیں یہ وہ عظیم تبدیلی ہے جو رہبرشہید عظیم الشان کی مجاہدتوں کی برکتوں کا نتیجہ ہے ۔
آيت اللہ احمد مروی نے کہا کہ رہبرشہید انقلاب کا کردار صرف قرآن کریم کی ظاہری ترویج تک محدود نہيں ہے بلکہ انہوں نے قرآنی تعلیمات کی ترویج اور قرآنی مفاہیم کو درک کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دینے اور راغب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے وہ ہمیشہ قرآن میں تدبر، آيات الہی کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور لوگوں کی انفرادی اوراجتماعی زندگی میں قرآنی تعلیمات کو عام کرنے پر بہت زیادہ زور دیتے تھے
ہدایت انسانی میں قرآن و عترت کا اٹوٹ رشتہ
آيت اللہ احمد مروی نے اپنے خطاب کے دوران امام اور امامت کے بارے میں حضرت امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا علیہ السلام واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ ((الامام واحد دھرہ )) امام یگانہ روزگار ہوتا ہے (( لایدانیہ احد)) کوئي بھی اس کے برابر نہيں ہوسکتا (( ولایعادلہ عالم )) اور کوئي بھی عالم، علم ومعرفت میں اس کی برابری نہيں کرسکتا (( لایوجد لہ بدل ولامثل ولانظیر )) اور نہ توکوئي اس کا بدیل ہے، نہ مثل ہے اور نہ نظیر ہے۔ ان میں سے ہرایک تعبیر حقیقت امامت کے باب میں گہرے معارف اور تعلیمات کی حامل ہيں
انہوں نے شیعہ عقائد اور منظومہ اعتقادی میں زیارت جامعہ کبیرہ کی عظمت و اہمیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایک جامع نقطہ نگاہ میں امامت کی حقیقت اورامام کے مرتبے کو شیعی نظرئے کے لحاظ سے درک کرنا اور سمجھنا چآہیں تو بلاشبہہ زیارت اس سلسلے میں بہترین معرفتی منشور ہے وہ زیارت جو معصوم کی زبان سے جاری ہوئي اوراس کو امامت کے میدان میں شیعوں کا اعتقادی منیفسٹو اور منشور قرار دیا جاسکتا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی آيت اللہ مروی نے اسی طرح پیغمبر گرامی اسلام (ص) کی حدیث ٹقلین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ؛ رسول خدا (ص) نے فرمایاہے کہ «إنی تارک فیکم الثقلین، کتاب الله و عترتی».اس نورانی حدیث کی بنیاد پر قرآن کریم اور پیغمبرگرامی اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عترت کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہيں ہوسکتیں اور ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ کر اور صرف کسی ایک کا دامن تھام کر دین کو مکمل طور پرسمجھا نہيں جاسکتا ۔
انہوں نے دینی معارف کی ترویج میں امام رضا علیہ السلام کی نورانی بارگآہ کے مقام و کردار کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس پس منظرمیں امام رضا علیہ السلام کی مقدس بارگاہ عترت پیغمبر ( ص) کی تجلی کے عنوان سے ملک کے ہر مذہبی اور ثقافتی مرکز سےزیادہ اس بات کی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کی نشرو اشاعت کا مضبوط مرکز قرار پائے کیونکہ قرآن و عترت (ع) میں کسی بھی طرح کی کوئي جدائي نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ آستانہ مقدسہ قرآنی تعلیمات اور الہی معارف کی ترویج کے میدان میں عظیم توانائيوں کا حامل ہے اور لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگي میں قرآنی تعلیمات کو ڈھالنے کا بہترین مرکز ہے ۔
حرم رضوی ؛ قرآن اور اہل بیت(ع) کی تعلیمات کی ترویج کا مرکز
آستان قدس رضوی کے متولی نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگي میں قرآن کریم کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حرم مطہر رضوی کو قرآنی سرگرمیوں کے ایک اعلی نمونہ عمل کے طور پر پیش کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اورآستان قدس رضوی کو قرآنی میدان میں بہترین رول ماڈل اور قرآن کی تعلیم نیز حفاظ اور قاریوں نیز قرآنی معارف کی ترویج کے میدان کا علمبردار ہونا چاہئے ۔
آيت اللہ مروی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے قرآن پیغمبرخاتم اور افضل انبیاء صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نتہا جاودانی معجزہ ہے کہا کہ حتی قران کریم کی ایک آيت بھی انسان کو بدل سکتی ہے اور اس کی زندگي میں عظیم تبدیلی پیدا کرسکتی ہے ۔ قرآن کریم پیغمبر اسلام کا قیامت تک کے لئےجاودانہ معجزہ ہے جو ہمیشہ انسانوں کی ہدایت کرتا رہے گا ۔
قرآنی تعلیمات کی ترویج ایک دائمی اوربنیادی ضرورت ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے خط رناّنی میں قران کریم کے چھپے ہوئے نئے نسخہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جس پر رہبرشہید انقلاب کی تقریظ اور دستخط ہے کہا کہ قرآن کریم کا یہ نسخہ آستان قدس رضوی کو ہدیہ کیا گيا اور یہ قرآنی علوم کی تحقیقات اور فن کتابت میں ایک گرانقدر نسخہ ہے اور رہبرشہید قرآنی تعلیمات ، قرآنی نسخوں کی کتابت اور دیگر علوم میں صاحب نظر تھے ۔
آیت اللہ احمد مروی نے کہا کہ قرآن کریم کی چھپائي اور طباعت کے میدان میں قرآن کی ظاہری خوبصورتی کو اس کے معانی اور پیغامات پر حاوی نہيں ہونے دینا چاہئے اور ایسی کتابت کی جانب نہیں جانا چاہئے جو دیکھنے میں تو خوبصورت ہو لیکن تلاوت کرنے میں قاریوں کوآسانی نہ ہو بلکہ قرآن کی نشرو اشاعت اور طباعت میں اصل یہ ہے کہ تلاوت اور فہم و درک میں آسانی ہو۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آستان قدس رضوی کے خطی کتابخانہ کے دروازہ کوجو ایک عظیم خزانہ ہے محققین اور شائقین کے لئے کھلا رہنا چاہئے ۔
انہوں نے قرآن کریم کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبرعظیم الشان کے جاودانی معجزہ کے بارے میں بات بہت زیادہ ہے اور اس کے بارے میں ہم سب کی ذمہ داریاں بہت سنگین ہيں اور ہم امید کرتے ہيں حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی عنات سے اپنی توانائي کے اعتبار سے قرآن کریم کی ترویج کے راستے میں موثرقدم آگے بڑھائيں گے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کے اس نفیس نسخے کی تقریب رونمائي کے اختتام پر حاضرین نے اس نسخے کی جس پر رہبرشہید انقلاب اسلامی کی تقریظ اور دستخط ہے زیارت کی ۔